اَلْفَتْنُ: (1) دراصل فَتَنَ کے معنی سونے کو آگ میں پگھلانے کے ہیں تاکہ اس کا کھرا کھوٹا ہونا معلوم ہوجائے – محمد بن مثنیٰ اور محمد بن بشار نے ہمیں حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : ہمیں شعبہ نے ابوسلمہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے ابونضرہ سے سنا ، وہ حضرتابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کر رہے تھے ، انہوں نےنبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : “” بلاشبہ دنیا بہت میٹھی اور ہری بھری ہے اور اللہ تعالیٰ اس میں تمہیں ( تم سے پہلے والوں کا ) جانشیں بنانے والا ہے ، پھر وہ دیکھے گا کہ تم کیسے عمل کرتے ہو ، لہذا تم دنیا ( میں کھو جانے سے ) بچتے رہنا اورعورتوں ( کے فتنے میں مبتلا ہونے سے ) بچ کر رہنا ، اس لیے کہ بنی اسرائیل میں سب سے پہلا فتنہ عورتوں ( کے معاملے ) میں تھا ۔ “” اور بشار کی حدیث میں ہے : “” تاکہ وہ دیکھے کہ تم کس طرح عمل کرتے ہو ۔ “(صحیح مسلم : ۲۷۴۲)
Let's see Related Posts
ہم سورة البقرة سے خود کا کنیکشن رکھیں ؟
عظمت والے قرآن کو ویسے بھی روزانہ پڑھنا ہے ہمیں، ما شاءاللہ ،جتنا آسانی سے ہو سکے (یہ ہمیں بتایا گیا ہے)
میری امت کا چراغ
سلام کثیرا امام ابو حنیفہ(رحمت اللہ علیہ ) پہ اور پیر اجمل صاحب پہ
